مولانا کا آزادی مارچ، حزب اختلاف کی آئیں بائیں شائیں

مولانا کا آزادی مارچ، حزبِ اختلاف کی آئیں بائیں شائیں

بابر ملک

مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کا اعلان کر چکے ہیں کہ اکتوبر میں ہی ہونا ہے، دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، آزادی مارچ کی تاریخ تبدیل نہیں ہو گی، یہ کہنا ہے مولانا فضل الرحمان کا۔

اب دوسری جانب ایک اور منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، وہ منصوبہ بندی کرنے والی اس وقت کی حزب اختلاف کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی۔

جمیعت علمائے اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے باری باری دونوں پارٹیوں کے رہنماوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں اپنے آزادی مارچ میں شریک ہونے کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔ دونوں جماعتیں کبھی تو اقرار کرتی ہیں اور کبھی آئیں بائیں شائیں شروع کر دیتی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری توکئی بار صاف شفاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ ہم مولانا صاحب کے دھرنے کی اخلاقی حمایت کریں گے لیکن اسکا حصہ ہرگز نہیں بنیں گے کیونکہ دھرنا ڈرامہ انکی پارٹی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے لیکن دھرنے کے بارے میں وہ بھی تاحال کنفیوژن  کا شکار ہیں۔

شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات ہوتی ہے دونوں مولانا کے احتجاج میں شامل ہونےکا اعلان بھی کر دیتے ہیں لیکن شرائط وہی ہوتی ہیں۔ بلاول کہتے ہیں کہ دھرنے کاحصہ نہیں بنیں گے۔ شہباز کہتے ہیں تاریخ کو اکتوبر کی بجائے نومبر میں منتقل کیا جائے۔

اگر سب کو یاد ہو تو مولانا آزادی مارچ ستمبرمیں کرنے کے حامی تھے اور شہباز شریف کی وجہ سے انہیں ایک مہینہ مزید آگے بڑھانا پڑا تھا اب انہوں نے ٹھان لی ہے کہ اکتوبر سے آگے تاریخ نہیں بڑھائیں گے لیکن ایسی کیا وجہ ہے کہ شہباز شریف اور اب بلاول بھی یہ چاہتے ہیں کہ تاریخ نومبر کی رکھی جائے۔

اس کی کچھ وجوہات جو فی الحال سامنے آتی نظر آتی ہیں وہ کچھ اس طرح سے کہی جا سکتی ہیں کہ ایک تو پاکستان میں اس بار ڈینگی مچھر بے قابو ہو چکا ہے اور حکومت آنکھیں بند کئے ہوئے ہے تاحال کوئی حفاظتی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

شہرِ اقتدار اور اسکے ساتھ جڑواں شہر راولپنڈی میں یہ وبا انتہائی خطرناک حد تک جا پہنچی ہے، مسلم لیگ ن والے یہ کہتے ہیں کہ اکتوبر کا مہینہ گزار کے نومبر میں سردی ہو گی تو مچھر کی افزائش رک جاتی ہے لہٰذا احتجاج کے شرکا کو ڈینگی جیسے مرض سے بچانے کے لئے تاریخ آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

کچھ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اکتوبر کے آخر میں ترکی کے صدر رجب طیب اردووان پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں اور ان کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ شریف برادران کے بہت قریبی دوست مانے جاتے ہیں۔ جب سابق دورِ حکومت میں وہ پاکستان آئے توانہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے خطاب بھی کیا لیکن اس وقت آج کے وزیراعظم عمران خان نے اپنی پارٹی کے ہمراہ اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور پارلیمنٹ نہیں گئے۔

آج انہی عمران خان کا دورِ حکومت چل رہا ہے اور مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں تو مسلم لیگ ن کی کوشش ہے کہ طیب اردووان کا دورہ کسی طرح سے اکتوبر کے آخر تک خیریت سے گزر جائے گا تو اسکے بعد حکومت کو ٹف ٹائم دیا جا سکتا ہے لیکن فی الحال وہ ترک صدر کے دورے کے لئے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ 

تیسری وجہ شاید کچھ اس طرح بھی ہو سکتی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت ویسے تو نومبر میں ختم ہو رہی ہے اور وزیراعظم کی جانب سے انہیں مزید تین سال کی توسیع دے دی گئی ہے۔

کچھ ذرائع کہتے ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ توسیع لینے کے حق میں نہیں ہے کیونکہ اس وقت موجودہ حکومت کی کچھ غلط پالیسیاں اور ملکی معیشت کی دگرگوں صورتحال دیگر اداروں کا امیج بھی خراب کر رہی ہے۔ جنرل صاحب کی توسیع کی صورت میں عوام کو یہ بات کنفرم ہوتی نظر آتی ہے کہ عمران حکومت کے پیچھے انکا ہاتھ ہے اور وہ اسے راہ راست پہ نہیں لا پا رہے ہیں۔

ملک کی اس گھمبیر معاشی صورتحال کے پیش نطر شاید آرمی چیف ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے اور وہ اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد نومبر میں رئٹائرمنٹ لے سکتے ہیں لہٰذا اس کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کے لئے حکومت پر دباو ڈالنا یا مائنس عمران فارمولے پر عمل کرانا زیادہ آسان ہو جائے گا۔

ایک اہم وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے جو کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو اور شہباز شریف دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان ہیں۔ دونوں کسی بھی صورت میں  مولانا فضل الرحمان کو کامیاب احتجاج کا کریڈٹ دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔

دوسری جانب یہ بھی ڈر ہے کہ موجودہ حالات میں ایسا کوئی بھی انتہائی قدم نہ اٹھایا جائے جو ملک میں جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہو اور کسی غیرآئینی دلدل میں نہ پھنسا جائے۔ 

ایک وجہ ملک کے موجودہ سکیورٹی کے حالات بھی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بعد سے پاکستان کے بارڈر پر ٹینشن کا ماحول ہے، آئے روز بھارت کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے جو ملک  میں افراتفری کا سبب بنے اور اسکا فائدہ کوئی  دشمن ملک اٹھا سکے۔

کچھ چہہ مگوئیاں یہ بھی ہیں کہ دونوں پارٹیوں کے اندر یہ خوف بھی موجود ہے کہ کہیں موجودہ حالات میں کیا جانے والا احتجاج انکو کمزور اور حکومت کو مزید طاقتور نہ کر دے، کیونکہ اگر حزب اختلاف کا احتجاج ناکام ہوتا ہے تو اس سے تمام حزب اختلاف کی جماعتوں کی پوزیشن ڈاون ہوگی اور حکومتی پارٹی کی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے لہٰذا مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ احتجاج کے لئے نکلا جائے تاکہ مائنس عمران یا حکومت ہٹاو تحریک کامیاب بنائی جا سکے۔

آخر پہ اپنا ایک ذاتی تجربہ جو شئیر کرنا چاہوں گاکہ آج کل اگر ایک بار باہر نکل کر کسی ریڑھی بان یا کسی مزدور سے حالات پوچھنے کی کوشش کریں تو وہ پہلے گالیاں دیتے ہیں پھر بات کرتے ہیں۔ پاکستان میں عام آدمی کی زندگی بہت حد تک تباہ ہو چکی ہے اور وہ روزی روٹی کے چکر میں در در ذلیل ہو رہا ہے، ان حالات کے باوجود حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے تاحال حکومت پر کوئی دباو ڈالنے کی کوشش نہیں کی جا رہی بلکہ سب سکون کی نیند سو رہے ہیں اور اپنے فائدے کی خاطر ابھی تک یہاں سیاست سیاست کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ان حالات میں غریب کس پر اعتبار کرے اور کون اس کے لئے بہتر ہے، وہ بھی کنفیوژن کا شکار ہو چکا ہے۔

Please follow and like us:

1 thought on “مولانا کا آزادی مارچ، حزب اختلاف کی آئیں بائیں شائیں

  1. بہت اچھا بہت بہترین اور بہت اعلی وجوہات کے ساتھ تجزیئہ پیش کیا۔ اپوزیشن کو ایک ساتھ ہونے کی ضرورت ہےاور عوام کو باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ عوام نکلنا چاہ رہی ہے لیکن اپوزیشن۔۔۔۔ آپ کی بات ٹھیک ہے کہ آئیں بائیں شائیں کر رہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error

Share with the world

RSS
Follow by Email
LinkedIn
Share