خان صاحب کی تقریر اور عملی اقدامات

خان صاحب کی تقریر اور عملی اقدامات

بابر ملک

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے خطاب کیا، جسے ایک جاندار خطاب کہا جا سکتا ہے، سوشل میڈیا پر ایک شور ہے، عمران خان کے چاہنے والے اسے تاریخ کی ایک بہترین تقریر کہہ رہے ہیں، کچھ تو اس خطاب کا موازنہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے خطاب کے ساتھ کر رہے ہیں۔ کچھ ہمارے سوشل میڈیائی دوست ایسے بھی ہیں جو عمران خان کے اس خطاب کے بعد انہیں مسلم امہ کے عظیم لیڈر تک کے خطاب دے رہے ہیں۔

اس خطاب کی اہمیت میں اضافہ اس وجہ سے ہوا کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرتے ہوئے اسے متنازعہ علاقے سے اپنا حصہ بنا دیا۔ ریاست میں بھارتی افواج کی تعداد بڑھائی گئی اور وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا، مواصلاتی نظام مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور ریاست کے شہریوں کو محصور کر دیا گیا۔

ریاست جموں و کشمیر پہلے دن سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ رہا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسکا حل ناگزیر ہے لیکن ایک ایسے وقت میں جب بھارت میں انتہاپسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہو، گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا مودی وہاں کا وزیراعظم ہو اور مقبوضہ ریاست میں ظلم و بربریت کا ایک کاروبار سرگرم ہو تب پاکستان کے وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ایک خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

خان صاحب نے پہلا ٹاپک ماحولیاتی تبدیلی رکھا تو دوسرے ٹاپک میں اپنے ہی ملک کے عوام کو رگڑا دے دیا۔ خان صاحب یہ کنٹینر نہیں یو این جی اے کا فورم تھا۔ یہاں آپ کو اپنے ملک کا مثبت امیج ظاہر کرنا ہوتا ہے، اپنے عوام اور اپنے نظام کو برا نہیں کہنا ہوتا۔ خان صاحب آپنے گزشتہ دس سالوں کی برائیاں اس فورم پہ گنوا دیں لیکن آپ لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیتے کہ ایک سال سے زائد کا عرصہ آپ کو آئے ہو گیا ہے آپ نے کتنا پیسہ بیرون ممالک سے واپس منگوایا ہے جو آپ کی نظر میں گزشتہ دس سالہ دور میں چوری ہوا ہے یا لوٹا گیا ہے۔

خان صاحب خدارا اس وقت بارڈر پر ایک جنگ کی کیفیت ہے اور اس حالت سے نمٹنے کے لئے آپ کو یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت ہے نہ کہ مزید تفرقہ ڈالیں۔ خان صاحب آپ کنٹینر پر نہیں یو این جی اے میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے تھے، آپ کو یہ بات بالکل نہیں جچتی کہ آپ وہاں کھڑے ہو کر اپنے ملک کی برائیاں گنوانا شروع کر دیں۔

تیسرا ٹاپک آپ نے اسلام رکھا، جو آپ نے بولا اس سے اختلاف ممکن نہیں لیکن کشمیر پہ آپ کی تقریر اچھی تھی، عملی کام کچھ نظر نہیں آ رپا۔ آپ جس ملک کے جہاز پہ فری میں امریکہ گئے ہیں وہ کشمیر کے معاملے پر کتنا آپ کے ساتھ ہے آپ سمیت سارا پاکستان بہت اچھی طرح جانتاہے۔ گزشتہ دنوں سینئر صحافی حامد میر نے آپ کی حکومت کے بارے لکھا کہ آپ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں، آپ کے پاس مقررہ تعداد یعنی 16 ووٹ بھی پورے نہیں ہو سکے۔ آپ دعا دیں ترکی، ایران اور چین کو جنہوں نے ہر فورم پر آپ کا ساتھ دیا۔

دوسرا ٹاپک جو خان صاحب نے چنا وہ بھی وقت کی ضرورت تھی، غریب ممالک کے اکثر سربراہان نے لوٹ کا پیسہ ترقی یافتہ ممالک میں انویسٹ کر رکھا ہے، اس پیسے کو واپس لانا اور اسکی منتقلی کی روک تھام کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینا بھی وقت کی ضرورت ہے لیکن چونکہ خان صاحب کی تقریر فی البدیہ تھی جسے عرف عام میں غیرتحریر شدہ تقریر کہتے ہیں۔ شاید انکی سوچ کے عین مطابق تو ہو سکتی ہے، وہ اس سے اپنے سپورٹرز کو تو مطمئن کر سکتے ہیں لیکن کیا وقت اور جگہ کا تعین ٹھیک تھا؟ میں اسکی مخالفت کروں گا۔

خان صاحب! یو این جی اے وہ جگہ نہیں ہے جہاں اپنے ملک کی برائیاں گنوائی جائیں، وہاں جب سربراہ مملکت تقریر کرتا ہے تو اپنے ملک کا ایک مثبت امیج ظاہر کرتا ہے، اپنے ملک کی یکجہتی اور اتحاد کو ظاہر کرتا ہے، خصوصاَ اس وقت جب آپ کا ملک جنگ کے دھانے پر کھڑا ہے، آپ کے تعلقات ہمسایہ ممالک سے اتنے اچھے نہیں ہیں، ایک تنازعہ ہے جو آپ کے بارڈر پہ چل رہا ہے، اس وقت آپ کو ضرورت ہوتی ہے کہ اپنی عوام کو متحد کیا جائے، لیکن آپ یو این جی اے جیسے فورم پر اپنے ہی ملک کے سابق ادوار پر تنقید ایسے کرتے ہیں جیسے آپ آج بھی کنٹینر پر کھڑے ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین کو للکار رہے ہیں۔ خدارا کنٹینر سے نیچے آ جائیں اور قومی اتحاد کی علامت بنیں۔ آپ نے غلط فورم پر سیاسی مخالفت ظاہر کی، آپ نے اس سے اپنے ملک میں اپنے چاہنے والوں کی پذیرائی تو ضرور حاصل کی ہوگی لیکن عالمی سطح پر پاکستان کی کریڈیبلٹی کو نشانہ ضرور بنایا ہے۔

تیسرا ٹاپک اسلام مخالف پراپیگنڈے کا تھا جس پر آپ نے کمال بات کی، آپ کے انداز کو بھی سراہا گیا اور آپ کی باتون سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن آپ وہاں مذہبی مبلغ کے طور پر نہیں ایک ملک کی نمائندگی کرنے گئے تھے۔ آپ نے اسلام کا درست تصور پیش کیا جو لائق تحسین ہے لیکن آپ نے مسلم ممالک کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

آپ نے مسلمان ممالک کو خود اتحاد اور یکجہتی دکھانے کی بات نہیں کی جو آپس میں فرقہ ورانہ لڑائی میں مصروف ہیں، جو اپنی فوجوں کو اپنے ہی اسلامی بھائیوں کے خلاف استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ آپ انکو بھی سمجھاتے، اسلام کا اصل تصور دکھاتے تو زیادہ اچھا لگتا ورنہ اسلام اور قرآن کو ہمارے آج کے مسلمانوں سے زیادہ غیرمسلم قوموں نے اپنا رکھا ہے اور اسلامی اصولوں کے مطابق برابری کے حقوق اور ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کو انہوں نے اپنایا ہوا ہے۔

خان صاحب آپ کے خطاب کا آخری نکتہ کشمیر تھا، جسے آپ نے جامع انداز میں پیش تو کیا لیکن کیا یہ انداز بیرونی طاقتوں کو پسند آئے گا؟ آپ وہاں ایک ایٹمی طاقت کی نمائندگی کر رہے تھے خان صاحب، آپ کو ضرور رویہ تحکمانہ رکھنا تھا لیکن اتنا نہیں کہ آپ کے خلاف کوئی غلط قدم اٹھا سکے۔

آپ کا ایٹمی جنگ کا اشارہ دینا صحیح بھی تھا لیکن اس پر لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ آپ گزشتہ 20 سالوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، دنیا آپ کے ایٹمی اثاثوں پہ نظر جمائے بیٹھی ہے اور اسکے خلاف پراپیگنڈے بھی کرتی آئی ہے۔ آپ کا اس طرح کا جذباتی انداز کہیں ہمارے ایٹمی اثاثوں کیلئے مہلک نہ بن جائے آپ کو یہ سوچنا چاہئے۔

دنیا پہلے بھی کہتی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غلط ہاتھوں میں جا سکتے ہیں، کہیں آپ کی اس تقریر کو بنیاد نہ بنا لیا جائے۔ کہیں آپ کو ایٹمی طور پر غیرمسلح کرنے کی جدوجہد انکی تیز نہ ہو جائے۔ آپ کو کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچنا ضرورت ہے۔ آپ کی تقریر پاکستانی عوام کی ترجمانی تو کرتی ہے لیکن سفارتی سطح پر اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں اس بارے سوچنا بھی آپکا فرض بنتا ہے کیونکہ آپ پاکستان کی ایک عام جذباتی شہری نہیں بلکہ پاکستان کی ڈور آپ کے ہاتھ میں ہے، چاہیں تو اسکو کٹوا دیں چاہیں تو اسکو مزید مضبوط بنا دیں۔

خان صاحب آپ خدارا اپنے کنٹینر سے نیچے اتر آئیں اور حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھیں کہ آپ اس وقت واحد اسلامی ملک جو ایٹمی طاقت بھی ہے اسکے وزیراعظم ہیں، آپ اس وقت اپوزیشن کے بینچوں پر نہیں بیٹھے ہیں کہ جو مرضی بول دیں گے کسی کو فرق نہیں پڑے گا بلکہ آپ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ پاکستان کی پالیسی کو واضح کرتا ہے۔ آپ کا بیان ایک سیاسی بیان نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک پالیسی بیان ہوتا ہے۔ دنیا اسکو ایک عام سیاسی بیان کے طور پر نہیں لیتی، آپ کے بیان سے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ بھی سوچنا آپ کا فرض ہے۔

آپ نے مودی پر تنقید کی بالکل ٹھیک کیا، آپ نے مودی کے انتہاپسندانہ نظریے پر تنقید کی وہ بھی آپ نے بالکل بجا فرمایا لیکن کیا آپ کی یو این جی اے میں کی گئی تقریر اور آپ کا عمل دونوں متصادم نہیں ہیں؟ آپ مودی کو مس کالیں مارتے رہے ہیں کہ وہ آپ سے رابطہ کر لے، بھارتی انتخابات سے پہلے آپ مودی کی جیت کی دعائیں کرتے رہے ہیں تو ایسا کیا ہے جو اس کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بدل گیا اور آپ لوگ اس قدر مخالف ہوگئے؟ آپ کو اس نکتے پر بھی سوچنا ہے کہ ہم جو مرضی کرلیں اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتے، اور ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی آج نہیں تو کل کرنی پڑے گی لیکن یہ سوچیں کہ کہیں دیر نہ ہو جائے۔

آپ کے دوست جن کے طیاروں میں آپ سفر کر رہے ہیں وہ آپ کے نکتہ نظر سے کتنا مطابقت رکھتے ہیں اور بھارت کے کتنے قریب ہیں یہ آپ کو دیکھنا ہوگا۔ اس وقت تک اگر ایک عام آدمی بھی دیکھے تو ایران، ترکی اور چین کے علاوہ آپ کے سب دوستوں نے آپ کو دھوکہ دیا ہے اور کشمیر پر آپ کے موقف کی حمایت کرنے کی بجائے انہوں ںے بھارت کی حمایت کی ہے۔ اب آپ کیا عمل کرتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے، چین کے ساتھ سی پیک آپ نے ٹھنڈا کر دیا ہے، ایران کے ساتھ آپ کے تعلقات کوئی اتنے اچھے نہیں ہیں کیونکہ آپ سعودی عرب کے قریب ہونا چاہتے ہیں، ترکی کے ساتھ آپ کے تعلقات شاید اچھے نہیں ہیں کیونکہ آپ ترک صدر کو اپنے سیاسی مخالف کا دوست سمجھتے ہیں۔

آپ کو خدارا اب یہ سب بدلنا ہوگا، آپ کو جذباتی تقریروں کی بجائے عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ آپ نے یو این جی اے میں تقریر کر لی، پاکستانی عوام سے واہ واہ بھی سمیٹ لی، اب واپس آئیں تو اصل مسائل پر توجہ دیں، ڈوبتی معیشت کو سہارا دیں، عملی اقدامات اٹھائیں، اگر کوئی چور آپ نے پکڑا ہے تو اس سے پیسے نکلوائیں ورنہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ آئندہ آپ کے گلے بھی پڑ سکتی ہے۔ عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لیں اور پاکستان کے حقیقتی دوست اور دشمن کو پہنچانیں۔

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو، آمین

Please follow and like us:

7 thoughts on “خان صاحب کی تقریر اور عملی اقدامات

  1. {A person|Someone|Somebody} {necessarily|essentially} {lend a hand|help|assist} to make {seriously|critically|significantly|severely} {articles|posts} {I would|I might|I’d} state. {This is|That is} the {first|very first} time I frequented your {web page|website page} and {to this point|so far|thus far|up to now}? I {amazed|surprised} with the {research|analysis} you made to {create|make} {this actual|this particular} {post|submit|publish|put up} {incredible|amazing|extraordinary}. {Great|Wonderful|Fantastic|Magnificent|Excellent} {task|process|activity|job}!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error

Share with the world

RSS
Follow by Email
LinkedIn
Share