کیا پاکستان بھی اٹلی اور ایران جیسی غلطی دوہرا رہا ہے؟

فائل فوٹو: پاکستان میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثر شہر کراچی میں گاڑیوں اور عوام کا سمندر

کیا پاکستان بھی اٹلی اور ایران جیسی غلطی دوہرا رہا ہے؟

تحریر: بابر ملک

ابھی باہر نکلا تو محلے کے ایک انتہائی محترم باریش بزرگ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے ہاتھ ملانا چاہا تو میں نے معذرت کرتے ہوئے احتیاط کی درخواست کی۔

بزرگ تو جیسے آپے سے باہر ہو گئے، کہتے ہیں میرا ایمان کمزور ہے، جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں ہو سکتی لہٰذا کرونا کے باعث احتیاطی تدابیر اپنانا دراصل ایمان کی کمزوری ہے۔ سمجھانے کی کوشش کی کہ جناب آپ کی زندگی اللہ کی امانت ہے اسکی حفاظت کرنا آپ پر فرض ہے۔ وہ بضد تھے کہ یہ سب ڈر ایمان کی کمزوری ہے، انکا ایمان اتنا مضبوط ہے کہ جب تک اللہ نہ چاہے انہیں کچھ نہیں ہو سکتا۔

اتنی دیر میں سڑک پر یونیورسٹی کی ایک بس آ رہی تھی، میں بولا آپکا ایمان ماشاءاللہ اتنا مضبوط ہے تو اس بس کے آگے لیٹ جائیں، اگر آپ کی آج کی رات قبر میں نہ ہوئی تو بچ جائیں گے ورنہ آپکی آنتیں باہر آ جائیں گی۔ جوشیلے انداز میں بولے کہ یہ خودکشی ہے بھئی، میں نے جواب دیا تو پھر کسی وبا سے احتیاط نہ کرنا کون سی عقل کہتی ہے کہ خودکشی نہیں۔ انکا جواب بس اتنا تھا کہ تم سے بحث بیکار ہے۔

چین جب اپنا 6 کروڑ افراد پر مشتمل پورا صوبہ لاک ڈاون کر چکا تھا، دنیا اس پر لعن تعن کر رہی تھی، اٹلی اور ایران میں اس وقت تک متاثرہ افراد کی سینچری بھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ دونوں ممالک نے معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کی بجائے اسے لائیٹ لیا اور آج ایک ماہ کے اندر اٹلی میں وائرس سے متاثرہ افراد تو ہزاروں ہیں، مرنے والے بھی چار ہزار کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایران جیسا ملک جہاں مسلمان کے مقدس مقامات ہیں، اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھنے میں دیر کی جسکا خمیازہ اسے آج بھگتنا پڑ رہا ہے، وبا ایران کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے، اس نے وقت پر زیارتیں بند نہ کیں تو دیگر ممالک سے آنے والے زائرین بھی اس وبا کا نشانہ بنے، وہی زائرین جب اپنے ممالک واپس گئے تو یہ وبا ساتھ لے گئے اور پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

فائل فوٹو: مساجد میں نماز جمعہ کے دوران نمازیوں کے درمیان وقفہ نہ ہونے سے وائرس کا دوسرے افراد میں منتقل ہونا آسان ہے

اب پاکستان بھی تو وہی غلطی دوہرا رہا ہے۔ آج جمعہ تھا، مساجد میں اسی طرح رش اور نمازی بغیر احتیاطی تدابیر کے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے، مصافحہ کر رہے تھے اور کندھے سے کندھا ملائے کھڑے تھے۔

میں تو ٹھہرا ایک گناہگار انسان، کسی بھی دیندار سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو سب کا یہی کہنا ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں ہو سکتی، اپنا ایمان مضبوط رکھو۔ ان حالات میں آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وبا پاکستان میں نہیں پھیلے گی۔

 

 

او بھئی احتیاط کرنا اور اپنی حفاظت کرنے کا حکم میرے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ انسان کی زندگی اللہ تعالٰی کہ امانت ہے جس میں خیانت کرنا اور زندگی کی پرواہ نہ کرکے آپ کون سا ایمانی کام کر رہے ہیں۔

کچھ دن قبل عرب ملک سے ہی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک مسجد کی اذان سنائی دے رہی تھی، اذان میں الصلاتُ فی بیوتکم کے الفاظ بھی دو مرتبہ دوہرائے گئے، مساجد سے اعلانات کئے جا رہے ہیں کہ نماز اپنے گھروں پر ہی ادا کریں۔

فائل فوٹو: کرونا وائرس کے سبب عملے کے علاوہ کسی کو حرمین شریفین میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی

آج سعودی عرب میں حرمین شریفین جیسی مقدس جگہ پر بھی نمازِجمعہ نہیں پڑھی گئی، سب سے کہا گیا ہے کہ نماز اپنے گھروں پر ادا کریں۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور کویت جیسے عرب ممالک کے علاوہ ترکی اور ایران جیسے ممالک میں بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر نماز گھروں میں ادا کرنے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔

سعودی حکومت کے مطابق اسکی جو وجوہات بیان کی گئی ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کس نمازی کے اندر کرونا کا وائرس پایا جا رہا ہے، مساجد میں بچھی قالین پر نماز پڑھے گا تو وائرس وہاں زیادہ دیر زندہ رہتا ہے جو دوسرے افراد کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتا ہے، قیام کے دوران نمازی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں اتنے کم فاصلے سے وائرس دوسرے انسان کو منتقل ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔ ان حالات میں احتیاطی تدابیر کے طور پر لوگوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ نماز اپنے گھروں پر ادا کریں۔

اسلام جن مقدس علاقوں سے ہم تک پہنچا ہے ان علاقوں میں احتیاطی تدابیر تو اپنائی جا رہی ہیں لیکن نہیں معلوم ہمارے مولوی حضرات میں ایسا کون سا جذبہ ایمانی زیادہ آ گیا ہے کہ وہ احتیاط کی بجائے دوسروں کی موت کا سبب بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

(صحیح مسلم) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا نے نماز کی اذان دی۔اس رات سردی اور آندھی تھی تو آپ نے اذان میں کہا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب رات سردی کی اور بارش کی ہو تو اذان کے بعد کہہ دیا کرو، پکار کر، کہ نماز گھروں میں پڑھو۔

جب اللہ اور اسکا حبیب صلی اللہ علیہ وسلم انسانی جان کی حفاظت کا حکم دے رہے ہیں تو ہم کیوں ایک نیا اسلام ایجاد کر رہے ہیں جسمیں انسانی جان کی کوئی فکر نہ ہو، اللہ نے خودکشی کو حرام قرار دیا ہے تو ہم احتیاطی تدابیر نہ اپنا کر کیوں خودکشی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل کہا گیا ہے تو پھر اگر آپ کی وجہ سے کوئی شخص اس وبا سے متاثر ہوکر جان سے جائے گا تو اسکا قتل یقیناَ آپ کے سر پر ہوگا۔

فائل فوٹو: اکثر دفاتر میں نصب بائیومیٹرک حاضری کی ڈیوائس

اسی طرح کے جرائم کچھ پرائیویٹ سیکٹر کے دفاتر بھی انجام دے رہے ہیں، حکومت کی طرف سے واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ تمام دفاتر میں کچھ عرصے کے لئے بائیومیٹرک حاضری کا نظام بند کیا جائے۔ واضح ہدایات اور متعدد چھاپوں کے باوجود کچھ اداروں کی انتظامیہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور وہاں تاحال ملازمین سے بائیومیٹرک حاضری لگوائی جا رہی ہے۔ کل کلاں اگر دفتر کا کوئی ملازم اس وبا کا شکار ہوتا ہے تو اس حاضری کی وجہ سے کئی دوسرے لوگ بھی متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ کرونا وائرس زیادہ تر ہاتھ کے استعمال سے پھیل رہا ہے، اگر کسی متاثرہ شخص کا ہاتھ بائیومیٹرک حاضری کی ڈیوائس پہ لگتا ہے تو یہ وائرس بعد میں آنے والے شخص میں ہاتھ کے ذریعے منتقل ہوگا جس سے اسکی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

کرونا وائرس کی موجودگی کا جب تک کسی انسان کو پتا چلتا ہے اس وقت تک وہ اسے کئی اور لوگوں کو منتقل کر چکا ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس سے محفوظ تصور کر رہا ہوتا ہے اور یہ بونگیاں مار رہا ہوتا ہے کہ کچھ نہیں ہوتا یار جب موت آنی ہے تب ہم نہیں روک سکتے۔ خود تو چلو مر جاو گے لیکن کسی اور کی موت کا سبب کیوں بن رہے ہو، کسی اور کی جان کے قاتل کیوں بن رہے ہو۔

خدارا پاکستان کو اٹلی یا ایران بننے سے بچاو، کرونا وائرس ایک عالمی وبا ہے جس سے اب تک ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اسے اتنا لائیٹ نہ لو۔ اللہ سے امان مانگو، استغفار کرو اور رحم کی اپیل کرو لیکن ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر بھی کرو کیونکہ اللہ کے احکامات مانو گے تو اللہ آپ لوگوں کی سنے گا۔ جب آپ اللہ کے احکامات سے ہی انکاری ہوگے۔

کسی انسان کی موت کا سبب مت بنو، خود کو بھی بچاو اور دوسروں کو بھی اپنے آپ سے محفوظ رکھو۔

اس وبا کے دوران میری کوئی باہر کی ٹریول ہسٹری نہیں ہے، اگر خدانخواستہ میں کل کو اس وائرس سے متاثر ہوکر جان سے جاتا ہوں تو اپنے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ کسی مولوی یا کسی بھی جوشیلے انسان کو معاف نہیں کروں گا جنکے بیوقوفانہ جوش کی وجہ سے میں یا کوئی اور خدانخواستہ جان سے جائے گا۔ میرے یا کسی اور انسان کے قتل کا ذمہ دار یہ سب ہونگے اور اللہ کے حضور انکو جوابدہ ہونا ہوگا۔

اللہ پاک اس زمین پر موجود تمام انسانوں بالخصوص مسلم امہ اور پاکستان کو اپنی امان میں رکھے، آمین

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error

Share with the world

RSS
Follow by Email
LinkedIn
Share