کرونا وائرس کا خطرہ، پاکستانی زائرین کے ایران جانے پر پابندی عائد کر دی گئی

 کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر پاکستانی زائرین کے ایران جانے پر پابندی عائد کر دی گئی، پابندی بلوچستان حکومت نے وائرس کی پاکستان منتقلی کے خطرے کے پیش نظر لگائی۔

بتایا گیا ہے کہ تفتان میں موجود 100کے قریب زائرین کو واپس کوئٹہ بلا لیا گیا ہے، چھپ کر جانے والے زائرین کو روکنے کیلئے خصوصی چیک پوسٹیں قائم کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ دوسری طرف محکمہ صحت نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی ہدایت پر ایران سے منسلک سرحدی علاقوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد چند روز قبل وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے مابین ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا جس میں وائرس کا پھیلاو روکنے سے متعلق اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا تھا کہ صوبے میں کرونا وائیرس سے بچاؤ کے لئے خصوصی ٹیمیں تفتان اور دیگر حساس علاقوں میں تعینات کردی گئی ہیں۔

ترجمان بلوچستان حکومت کا کرونا وائرس کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ مں کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت اس سے نمٹے کے لئے تیار ہے۔ بلوچستان سے کوئی بھی ایران آ جا نہیں سکے گا۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ پاک ایران سرحد بند نہیں کی جا رہی تاہم انسانی نقل وحمل پر پابندی ہوگی۔ سرحد بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کو کرنا ہے۔

ادھر ایران میں کرونا وائرس سے درجنوں افراد متاثر ہو گئے ہیں جبکہ کئی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی ہیں۔ ایرانی حکومت نے تہران، ہمدان اور قزوین سمیت چودہ صوبوں میں تعلیمی اور ثقافتی مراکز بند کر دیے ہیں جبکہ قم اور اراک میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب ترکی نے ایران کے ساتھ سرحد عارضی طور پر بند کر دی ہے جبکہ افغانستان نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کے سفر سے روک دیا ہے۔ اردن نے ایران سمیت چین اور جنوبی کوریا کے شہریوں پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد چھ سو سے تجاوز ہونے کے بعد ملک میں الرٹ لیول کو انتہائی سطح تک بڑھا دیا گیا ہے جبکہ ملک بھر میں وائرس کی وجہ سے سکولوں کی چھٹیوں میں مزید ایک ہفتے تک توسیع کر دی گئی ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error

Share with the world

RSS
Follow by Email
LinkedIn
Share