سنگلاخ زمینوں سے کونپلیں پھوٹتی ہی رہیں گی

فوجی عدالت میں ہتھکڑی لگے کھڑا شخص جام ساقی ہے اور سامنے اسکی گواہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید بیٹھی ہیں

آج جام ساقی کی دوسری برسی ہے

عامر فاروق

5 مارچ 2018 کو اس نے آخری سانسیں لی تھیں

اس تصویر میں ہتھکڑیاں پہنے کھڑا شخص جام ساقی ہے

منظر فوجی عدالت کا ہے

الزام وہی پرانا، بغاوت اور غداری کا ہے

1979 میں گرفتار کیے گئے ان قیدیوں پر تشدد کے دوران کامریڈ نذیر عباسی ریاستی تشدد کی تاب نہ لا کر مر گیا تھا

جام ساقی ہر ہونے والا تشدد جوان بیوی سکھاں برداشت نہ کر پائی اور کنویں میں کود مری

تشدد کے یہ روزنامچے حیدر آباد کی سنٹرل جیل سے لاہور کے شاہی قلعے تک مرتب ہوئے تھے

دور جنرل ضیا الحق کا تھا، جس نے منتخب وزیراعظم کو ایک گھڑے گئے مقدمے میں پھانسی پر چڑھا دیا۔ 90 روز میں انتخاب کرانے کے وعدے پر آیا اور حادثے میں مرنے تک وردی پہنے گیارہ برس ملک پر مسلط رہا

کرسی پر بیٹھی لڑکی ملک کی دو بار وزیراعظم منتخب ہونے والی اور راولپنڈی میں قتل کر دی جانے والی بے نظیر ہے

بے نظیر اس عدالت میں جام ساقی کی صفائی میں گواہی دینے آئی تھی

اس مقدمے میں اپنے جمہوری، آئینی اور بنیادی حق مانگتے ان سیاسی کارکنوں کی گواہی دینے فوجی عدالت میں غوث بخش بزنجو، عبد الولی خان اور معراج محمد خان بھی پیش ہوئے تھے

یہ تصویر اور یہ تحریر ان کی نذر جن کے خیال میں یہاں آگہی کا آغاز نوے کی دہائی سے ہوا اور جو اپنے من پسند اور چنیدہ سچ کا ایک پر پکڑ کر کوا بناتے اور اس رہگزر سے گزرنے والے پہلے مسافروں کو منہ بھر بھر کر داد دیتے ہیں

برداشت کریں، قبول کریں، تاریخ کے پنے کھرچ کر صاف نہیں کیے جا سکتے۔ یہ کسی پرانی قبر پر لگی تختی نہیں ہوتے۔ تاریخ کتابوں میں بھلے کیسی ہی موجود ہو، اپنی اصل شکل میں نسل در نسل آدرشوں میں منتقل ہوتی ہے۔

آواگون شاید ایک مفروضہ ہی ہو لیکن تاریخی حقائق ضرور نیا جنم لیتے ہیں۔ کسی ڈھیٹ کونپل کی طرح سنگلاخ زمین سے بھی سر ابھار لیتے ہیں

سچ کو ساتھ لے کر چلنے میں سب کی، قوم کی بقا ہے۔ بہت سوں کا حصہ شامل ہے تزئین گلستان میں تو چمن اجاڑنے والوں کے چہرے بھی نامعلوم نہیں

ہیروز کو زیرو بنانے اور لیب میں من پسند ہیرو تراشنے کی لاحاصل کوشش کی بجائے خامیوں، کوتاہیوں اور کامیابیوں کا دیانت دارانہ ادراک کر کے اور نشان ہائے منزل کا تعین کر کے آگے بڑھنا چاہئے

یہی عمل ہمیں ایک نئی طرز کے “صنعتی” و معاشی انقلاب کے دروازے پر دستک دیتی دنیا کے اس دور میں بقا کی ضمانت دے سکتا ہے۔ جو فی الحال ہو رہا ہے، جو قیام پاکستان سے اب تک ہوتا آیا ہے، وہ محض ناکامی کا نسخہ ہے

قومی مفاہمت ہی واحد دستیاب حل ہے۔ مگر ہر امکان کی ایک عمر ہوتی ہے۔ زندگی تو جاری رہتی ہے۔ امکان کا فائدہ اٹھائیں یا نادانی و نخوت میں “ہونہہ” کہہ کر ٹھوکر مار دیں۔ ہر دو صورتوں میں زندگی رواں دواں رہتی

پہلی صورت میں destination کا تعین ہمارا اختیار ہو گا، دوسری صورت میں destiny ہمیں کٹی پتنگ کی صورت اڑائے پھرے گی

مؤخر الذکر صورت میں مزید کئی نسلیں تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو جائیں گی۔ انسانی صلاحیت کے جہان کھوجے نہ جا سکیں گے۔ آدرش تو مگر کوئی نہیں ترک کرے گا، سنگلاخ زمینوں سے کونپلیں تو پھوٹتی ہی رہیں گی

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error

Share with the world

RSS
Follow by Email
LinkedIn
Share