امریکہ نے افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کے بعد امریکا نے افغانستان سے اپنی فوجیوں کے انخلاء کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اپنے اعلیٰ کمانڈر کو فوج کو نکالنے کے احکامات دے دیئے ہیں۔

پینٹا گون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے طالبان سے کیے گئے وعدوں کے بعد ہم نے اپنے اعلیٰ کمانڈرز کو احکامات دے دیئے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلاء کی تیاریاں شروع کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ انخلاء کی تیاری شروع ہوئی کہ نہیں لیکن ہمیں افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کے بعد دس روز کے اندر اندر اپنی فوج نکالنے کی تیاری شروع کرنا ہونگی۔

مارک ایسپر کا مزید کہنا تھا کہ کابل میں امریکی کمانڈر جنرل سکاٹ ملر کے پاس اختیار ہے کہ وہ موجودہ قریباً 13 ہزار امریکی فوجیوں سے تقریباً 8600 فوجیوں کا انخلاء کرے۔

امریکی وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ہم نیک نیتی کا مظاہرہ کرنے جا رہے ہیں اور اپنی فوج کو واپس بلانا شروع کر دیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ افغانستان میں تشدد کا خاتمہ ہو گا، جس کے نتیجے میں طالبان سمیت افغان گروپوں کے مابین 10 مارچ تک امن مذاکرات کا آغاز ہو گا۔

واضح رہے کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ اگر افغان طالبان امن و امان کی ضمانتوں اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے وعدے پر عمل درآمد نہیں کرتے تو ہم اس تاریخی معاہدے کو ختم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error

Share with the world

RSS
Follow by Email
LinkedIn
Share